9 مارچ 2021 - 11:55
پوپ فرانسس کا دورہ عراق، آیت اللہ سیستانی سے ملاقات/ پیغامات اور اثرات

حقیقت یہ ہے کہ آیت اللہ سیستانی نے ایک بار داعش کے خلاف فتوائے جہاد جاری کرکے عملی طور پر یہ تجربہ دنیا والوں کے سامنے رکھا تھا کہ کسی ملک میں بھی رہنے والے تمام مذاہب کے پیروکاروں کے نمائندوں کے اس ملک کے سیاسی اور سماجی معاملات میں کردار ادا کرنا چاہئے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ نجف اشرف میں آیت اللہ سید علی سیستانی کے سادہ سے گھر کا دروازہ کیتھولک عیسائیوں کے پیشوا کے لئے کھولا گیا تو انہیں سب سے پہلے اس سادگی نے حیرت میں ڈال دیا؛ شیعیان جہان کے ایک مرجع تقلید نے ان کا استقبال کیا اور گفتگو کا باب کھول دیا تو پہلا پیغام یہ تھا کہ اسلام گفتگو، استدلال اور امن کا مذہب ہے۔
گوکہ جناب پوپ شاید خود کسی سیاسی مقصد کے لئے عراق کے دورے پر نہیں آئے تھے اور پھر انہیں سیاست سے دوری پر کاربند رہنا پڑتا ہے مگر جو قوتیں عالمی سطح پر انہیں نقل و حرکت پر راغب کرتی ہیں، ان کے کئی چھوٹے بڑے سیاسی مقاصد ہوتے ہیں، بالخصوص مقبوضہ ممالک میں ان کا آنا جانا سو فیصد ان کی اپنی مرضی کے مطابق نہیں ہوتا؛ اور حضرت آیت اللہ سیستانی کو اس بات کا پورا علم تھا، چنانچہ کسی بھی فریق کی طرف سے اس دورے سے کوئی تشہیری اور سیاسی فائدہ اٹھانے کا سد باب کرنے کے لئے، ان کے نمائندے نے بغیر کسی تکلف کے، ہوائی اڈے پر پوپ فرانسس کا استقبال کیا اور آیت اللہ سیستانی کے ساتھ پوپ کی ملاقات میں کسی بھی تیسرے شخص کو شامل نہیں ہونے دیا گیا؛ صرف آخر میں گروپ فوٹو لینے کے لئے کچھ عیسائی شخصیات کو اندر آنے دیا گیا۔
اس ملاقات کا دو تہائی وقت آیت اللہ سیستانی نے لیا اور ایک تہائی وقت میں پوپ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آیت اللہ سیستانی کی تاکیدات میں ایک نہایت دلچسپ نکتہ فلسطین کا مسئلہ تھا؛ انھوں نے بڑی طاقتوں اور صہیونی ریاست کی طرف سے مسلط کردہ جنگ اور محاصرے سے دور رہ کر آبرومندانہ زندگی گذارنے کے حوالے سے فلسطینی عوام کے حقوق پر تاکید کی؛ اور یوں فلسطین کا مسئلہ - جو لگ رہا تھا کہ عرب حکمرانوں اور امریکی-صہیونی سازشیوں کے درمیان سازباز کی وجہ سے پھیکا پڑ گیا ہے - ایک بار پھر ابھر کر سامنے آیا اور آیت اللہ سیستانی نے فلسطینی کاز کی رگوں میں نیا خون جاری کی؛ اور نتیجہ یہ ہؤا کہ ایران اور فلسطین سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں نے آیت اللہ سیستانی کو خراج تحسین پیش کیا۔
آیت اللہ سیستانی نے دنیا بھر میں ظلم، جارجیت، پابندیوں اور غربت کی خراب تر ہوتی ہوئی صورت حال کا شکوہ کیا جبکہ دنیا جانتی ہے کہ کون سی طاقتیں ظلم کررہی ہیں، ظلم و ستم ڈھا رہی ہیں، ممالک پر جارحیب قبضہ کررہی ہیں اور دنیا جہان پر غربت و افلاس مسلط کررہی ہیں؛ چنانچہ انھوں نے دنیا والوں کو واضح کرکے بتایا کہ شیعہ مراجع کی ایک ذمہ داری دنیا کو ظلم و ستم، جنگ و جدل، غربت اور جارحیت سے نجات دلانا ہے۔  
حقیقت یہ ہے کہ آیت اللہ سیستانی نے ایک بار داعش کے خلاف فتوائے جہاد جاری کرکے عملی طور پر یہ تجربہ دنیا والوں کے سامنے رکھا تھا کہ کسی ملک میں بھی رہنے والے تمام مذاہب کے پیروکاروں کے نمائندوں کے اس ملک کے سیاسی اور سماجی معاملات میں کردار ادا کرنا چاہئے، چنانچہ انھوں نے ظلم و جارحیت اور غربت و افلاس کے ازالے پر زور دے کر در حقیقت جناب پوپ کو ان کی ذمہ داری یاد دلائی کہ اب باری ان کی ہے کہ اپنی روحانی طاقت کو انسان کی نجات کی راہ میں بروئے کار لائیں، جارحوں اور قابضوں کو باز رکھیں اور غربت و افلاس کے ازالے کے لئے اپنے اثر و رسوخ سے فائدہ اٹھائیں۔
شاید آیت اللہ سیستانی نے مشترکہ بیان کی تجویز کو اس لئے مسترد کیا تھا کہ ان کے قول و فعل کے درمیان کبھی بھی کوئی فاصلہ نہیں تھا اور آج تک انھوں نے جو بھی کہا ہے وہی کیا ہے۔
حضرت آیت اللہ سیستانی اور پوپ فرانسس کی ملاقات کے اہم نکتے:
* آیت اللہ سیستانی نے مغربی طاقتوں کی خواہشوں کے برعکس، مذاہب کے درمیان پرامن بقائے باہمی اصولوں کی یاددہانی پر اکتفا نہیں کیا اور اقوام عالم پر بڑی طاقتوں کے مسلط کردہ رنج و الم کی طرف اشارہ کیا اور ان اقوام کی حمایت کی جو عالمی طاقتوں کے مظالم سے تنگ آچکی ہیں۔
* انھوں نے واضح یا ضمنی طور پر فلسطین، عراق، یمن، ایران، وینزوئلا اور شمالی کوریا پر مسلط کردہ ظلم و قتل اور محاصرے کی طرف اشارہ کیا جبکہ یہ سارے مصائب بڑی طاقتوں نے اقوام عالم پر اس لئے مسلط کئے ہیں کہ وہ ان طاقتوں کے سامنے سرتسلیم خم کریں اور اپنے مسلمہ حقوق سے چشم پوشی کریں۔
* مغربی ذرائع ابلاغ کی شرانگیزیوں کا بغور لیا جائے تو بخوبی عیاں ہوتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ سمیت شیطانی طاقتیں حتی کہ اس ملاقات کو بھی ایران اور عراق کے درمیان اختلاف ڈالنے - حتی کہ نجف اور قم کے درمیان فاصلے بڑھانے - نیز عراق کی نجات دہندہ رضاکار فوج، الحشد الشعبی کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کرنا چاہتے تھے لیکن آیت اللہ سیستانی کی کیاست و ذکاوت نے اس سازش کو ناکام کرکے اس ملاقات کو امریکی-یورپی-صہیونی-سعودی ذرائع کے منہ پر ایک زبردست تاریخی طمانچے میں تبدیل کر دیا۔
* الحشد الشعبی کے بیرونی اور اندرونی دشمنوں پر یقینا یہ بات بہت بھاری گذری ہوگی کہ حتی پوپ فرانسس نے الحشد الشعبی کی تشکیل کے سلسلے میں آیت اللہ سیستانی کے فتوائے جہاد کو سراہا اور الحشد کی عیسائی یونٹ کے کمانڈر "ریان الکلدانی" کو اپنی تسبیح بطور تحفہ، دے دی۔
* ریان الکلدانی عیسائی کمانڈر ہیں مگر شہید الحاج قاسم سلیمانی اور الحاج ابو مہدی المہندس کے مکتب کے شاگر ہیں؛ جنہوں نے پوپ فرانسس کے سامنے بیان کیا: "شہید المہندس نے بابلیون یونٹ عراق کے عیسائی علاقوں کی داعش سے آزادی کے لئے تشکیل دی، اور عراقی عیسائیوں کو تحفظ دیا جبکہ اسی وقت امریکیوں نے عراقی عیسائیوں کو تنہا چھوڑ دیا تھا"۔

واضح رہے کہ آیت اللہ سیستانی نے ایسے حال میں الحشد الشعبی کی تشکیل دیا کہ عراق کے بہت سے علاقوں پر داعش قابض ہو چکی تھی اور بغداد کے نواح تک بھی پہنچ چکی تھی؛ اور شہید سلیمانی اور شہید المہندس وہی لوگ ہیں جنہوں نے الحشد کو تشکیل دیا؛ چنانچہ مرجعیت، شہدائے مقاومت اور الحشد الشعبی نے مل کر منحوس امریکی-سعودی-صہیونی مثلث کی سازش کو ناکام بنا کر عراق کو مغرب کی طرف سے مجوزہ 30 سالہ فرقہ وارانہ جنگ سے نجات دلائی، عیسائیوں، کردوں اور شیعہ اور سنی مقدسات کا تحفظ کیا، ایزدیوں کی ناموس کو بچایا، عراق کے حصےبخرے کرنے کی سازش کو ناکام بنایا، عراق اور علاقے کی دوسری اقوام کے خلاف مذکورہ پلید مثلث کی سازشوں کو شکست دی اور دنیا والوں کو بتایا کہ اسلام اپنی قلمرو میں سب کو تحفظ دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰